213763

نااہل نواز شریف کی ایک اور درخواست مسترد، سزا یقینی

اسلام آباد(عامر لیاقت نیوز ) پانامہ کیس میں عدلیہ کی جانب سے نااہل قرار پانے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی مشکلات بڑھتی ہی جارہی ہیں اور جیل کی سلاخیں عنقریب اُن کا مقدر بننے جارہی ہیں کیونکہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کی جانب سے ضمنی ریفرنس پر اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کردیا ہے ۔ 22 جنوری کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے شریف خاندان کے خلاف لندن فلیٹس ریفرنس میں ضمنی ریفرنس دائر کیا ہے جس میں 7 نئے گواہان شامل کئے گئے ہیں۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف دائر کردہ ریفرنسز کی سماعت کی۔ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر عدالت میں پیش ہوگئے۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ایون فیلڈ پراپرٹیز میں ضمنی ریفرنسز پر اعتراضات اٹھائے جنہیں عدالت نے مسترد کردیا۔خواجہ حارث نے کہا کہ ضمنی ریفرنس میں کوئی نئی بات شامل نہیں اور عبوری ریفرنس کے پرانے الزامات دہرائے گئے ہیں، ضمنی ریفرنس نواز شریف کی ذات کو نشانہ بنانے کے لیے داخل کیا گیا ہے اور اس کے پیچھے محرکات ہیں، جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل چیزوں کو ضمنی ریفرنس کا حصہ بنایا گیا، واجد ضیا کے بھتیجے اور فرانزک ایکسپرٹ کے بیانات کی روشنی میں ضمنی ریفرنس دائر کیا گیا، ضمنی ریفرنس باہمی قانونی مشاورت کے جواب کے نتیجے میں دائر ہونا تھا، لیکن ہماری طرف سے باہمی قانونی مشاورت کے تحت لکھے گئے خطوط کے تاحال جوابات موصول نہیں ہوئے۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ الزامات نہیں دوہرائے گئے بلکہ نئے شواہد سامنے آئے ہیں۔ جج محمد بشیر نے شریف فیملی کی جانب سے ضمنی ریفرنس پر اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کیس کی کارروائی آگے بڑھانے کا حکم جاری کردیا۔کرپشن کے مقدمات میں سزا یقینی دیکھتے ہوئے نااہل وزیر اعظم عدالت سے باہر گفتگو کے دوران بوکھلاہٹ کا شکار نظر آئے اور کہا کہ پورے ملک میں صرف نواز شریف کے خلاف مقدمات چل رہے ہوں چاہے وہ احتساب عدالت ہو ، ہائیکورٹ یو سپریم کورٹ ہر جگہ مجھے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں