3449733

دولت ہار گئی اور مہلت ختم ہوئی ـ…..!!

’’ہر چیز کا صدقہ ہوتاہے اور عقل کا صدقہ یہ ہےکہ جاہل کی بات سن کر برداشت کرنا‘‘…..شاید یہ جملہ لکھنا بہت آسان ہے ، ترغیب و ترویج کے لیے زباں سے ادائیگی بھی مشکل نہیں لیکن پاکستان کی عدلیہ نے عملی طور پر اِس جملے کے ایک ایک لفظ پر پورا اُترتےہوئے ایک بار نہیں بلکہ بارہا ’’عقل کا صدقہ دیا ہے ‘‘……دو برس کے پیچ و خم راستوں میں بہت سے پے چیدہ موڑ آئے جہاں منہ سے باہر لٹکی ہوئی زبانوں نے عدالت کے فیصلوں پر ہی نہیں بلکہ معزز منصفین پر بھی متعصبانہ رال ٹپکاتے ہوئےلعابِ غلیظ سے کئی جملے تحریر کیے مگر سلام تحسین ہے عدالت عظمی کے منصفین اور بالخصوص جناب جسٹس ثاقب نثار کو جنہوں نے تحمل،بردباری اور نظراندازی کو اُس کی آخری حد پر آنسو بہتے ہوئے دیکھا مگر خاموش رہے …..شاید کسی نے عدلیہ پر تنقید کرےوالے ایسے ہی چرب زبانوں کے لیے کہا تھا کہ ’’زمانے کو بدلتا دیکھ کر بھی خود کو نہ بدل سکا، نادان نادان ہی رہا ، اُلٹا بھی لکھا، سیدھا بھی لکھا …..بہرحال اب حشر کا تو نہیں لیکن ’’حشر دیکھنے کے لیے ‘‘ میدان سج چکا ہے ،صبر نے کارروائی کی اجازت دے دی،حلم نے بھی علم کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر گویا سمجھادیا ہےکہ ’’ہر عمل کی ایک حد ہوتی ہے‘‘…..بخدا! مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ نہال ہاشمی کے ساتھ کیا ہوا اور کیا نہیںہونا چاہتے تھا…..شاید پڑھنے والے یہ سمجھ رہے ہوں کہ میں آج خوشی سے نہال ہوں!!! نہیں !! قطعاً نہیں…..البتہ مجھے اطمینان ہے کہ آج شاہ رُخ جتوئی پھر گرفتار ہوا، مجھے سکون ہے کہ میرے ملک کی عدلیہ ’’دیت کی آڑ‘‘ میں سودے بازی کے اِس مکروہ دھندے کو روکنے کے لیے کمر بستہ ہوچکی ہے …..میں مطمئن ہوں کہ شاہ زیب کی روح کو آج تسکین مل گئی…..دولت،طاقت، اختیار اور مطلق العنانیت کو ایک بار پھر انصاف نے بُری طرح سے پٹخ کر اُس کو اُس کی اوقات یاد دلادی…..ورنہ کچھ دن پہے تک تو یہ حال تھا کہ
میری روح میں سناٹااور تیری آواز میں چپ
تُو اپنے انداز میں چُپ، میں اپنے انداز میں چپ
دنیا میں سب سے بڑی اذیت ’’خاموشی‘‘ ہے اور شاہ زیب قتل میں شاہ رخ جتوئی کی رہائی کے بعد ’’خاموشی‘‘ نہیں تھی بلکہ دھیما دھیما شور تھا، چہ مگوئیاں تھیں،اشکال کی بھنبھناہٹ تھی اورغم و غصے سے مٹھیاں بھنچی ہوئی تھیں …..انصاف کی گدی پر براجمان پاکستان کے چیف جسٹس نے کیس دوبارہ کھولا، آوازیں کچھ تھمیں…..ریمارکس سامنے آئےتو چہروں پر ایک تمتماہٹ آئی اور آج جب شاہ رخ کی گرفتاری کا حکم ہوا توبجھے چراغ خود بخود جل اُٹھے ….. گو کہ میں خود ایک ’’ان دیکھی‘‘ اور ’’انجانی پابندی ‘‘ کا شکار ہوں…..مجھے صفائی کاموقع دیے بغیر 61دنوں سے ’’قید تنہائی‘‘ میں تعصب اور ذاتی رنجش نے ڈال رکھاہے لیکن آج شاہ زیب کو اگر روحانی انصاف ملاہے تو میری مُردہ اُمید کو بھی زندگی ملی ہے …..پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار نے مجھ جیسوں کی عزت نفس بحال کردی ہے اور اُمید دلائی ہےکہ ’’انصاف ذاتی پسند اور ناپسند پر فیصلوں کے اعلان‘‘ کانام نہیں ہے بلکہ انصاف قرائن و شواہد کی بنیاد پر درست فیصلے کی گہرائی تک پہنچنے کا نام ہے …..اسلام کے حسین قانونِ دیت کوجن طاقت وروں نے مذاق بنا رکھا ہے ،درحقیقت عدالت نےآج اُن کے خلاف فیصلہ سنایا، بااختیار چہروں پر چیف جسٹس کے فیصلے کا زناٹے دار طمانچہ خود ’’ایک ازخود نوٹس‘‘ ہے جسے اب سمجھ لینا چاہیے کہ ’’شایدقتل و غارت کے بازار میں لاشیں خریدی جاسکتی ہوں لیکن احساس کی روح جب منصف کے قلم کی طاقت بن جائے تو قرآن کےفیصلے بدلنے والوں کی قبریںبھی بدل دی جاتی ہیں‘‘…..
مجھے یقین ہےکہ قتل خطا اور قتل عمد پر اب ایک مکمل بحث ہوگی، میرا گمان مجھ سے کہتا ہے یہ باب اب ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گاکہ دولت و قوت کے نشے میں مست بگڑی نسل کسی کے گھر کا چراغ بجھا کرگھر میں روشنی کے لیے اپنے پیسوں سے نیا بلب لگادے اور گھروالے مطمئن ہوجائیں‘‘…..آغا شورش کاشمیری فرمایا کرتے تھے کہ ’’بڑے انسانوں کی کمزوریا ںاُن کا آرٹ ہوتی ہیں اورغلطیاں تجربہ اور چھوٹے انسانوں کی غلطیاں اُ ن کے خلاف فردِ جرم بنتی ہیںاور غلطیاں رسوائی کے چھینٹے‘‘ ….. الحمد للہ! چیف جسٹس نے ایسا نہیں ہونے دیا،ہاتھ جذبات سے کانپ رہے ہیں اِس لیے زیادہ لکھنے کے بجائے صرف ایک جملے میں اپنی بکھری ذات کو سمیٹنے کی کوشش کروں گا کہ ’’آج دولت ہار گئی اور مہلت ختم ہوئی ‘‘…..شکریہ جناب چیف جسٹس !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں