5876088

ریحام خان کے تہلکہ خیز انٹرویو پر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا جامع تجزیہ

کراچی (عامر لیاقت نیوز….تجزیہ عامر لیاقت حسین )
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ اور ممتاز سماجی کارکن محترمہ ریحام خان نے حیرت کا اظہارکرتے ہوئےپاکستانی میڈیا میں ایک نیا سوال کھڑا کردیا ہےکہ ’’ سپریم کورٹ نے کس بنیاد پر عمران خان کو صادق اور امین قراردے دیا حالانکہ وہ تو میری شادی کے معاملے پر جھوٹ بولتے رہے ہیں‘‘……گو کہ ریحام خان کا سپریم کورٹ سے یہ سوال انتہائی نابالغانہ ہے اور بادی النظر میں ناپختگی کی دلیل ہے کیونکہ عدالت عظمی کے معزز جج صاحبان پر مشتمل بینچ اُن کی شادی کے معاملے پر عمران کے خلاف مقدمے کی سماعت نہیں کررہا تھا بلکہ وہ بے نامی جائیداداور رسیدوں کا معاملہ تھا تاہم اِ س کے باوجود بہرحال بھارتی ٹیلی ویژن کو دیے گئے ریحام خان کے سوالات میں اِس حد تک جان موجود ہے کہ شادی کا مہینہ کچھ اور تھا اور جو بتایا گیا وہ کچھ اور البتہ اِس کے باوجود ہم اِسے ’’شادی چھپائی‘‘ رسم کا حصہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اگر اِسے ’’شادی ‘‘ کہا جائے گا تو شادی نام ہی گواہان کی موجودگی میں ’’عقدِ مسنونہ‘‘کرنے کا ہے ، اب وہ پانچ افراد کی موجودگی میں ہو یا چھ افراد کی اِ س سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ پھر یہ معاملہ ’’سادگی‘‘ اور ’’دھوم دھڑکے کے ساتھ‘‘ کرنے میں امتیاز سے منسلک ہوجائے گاالبتہ ’’شادی‘‘ کے ساتھ لفظ ’’چھپانا‘‘ ایسا ہی اضافی ہے جیسے ’’آبِ حیات کا پانی‘‘ ، ہاں مگر اب قانونی ماہرین کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ’’شادی کا اصل مہینہ چھپانا ‘‘ بھی اثاثوں کو چھپانے میں شامل ہے یا نہیں ‘‘۔ ریحام خان نے گھر کی بات غیر کے سامنے یعنی بھارتی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی حالانکہ پاکستان میں بعض بڑے چینلز ایسے موجود ہیں جنہیں یہ انٹرویو دیا جاسکتاتھا اِس لیےمجھ جیسے عام پاکستانی کو اُن کا یہ انداز بھلا نہیں لگا ۔ ریحام خان صاحبہ اپنے انٹرویو کے انتخاب کے لیے ’’جیونیوز‘‘کو ومنتخب کرسکتی تھیں جہاس محترم سہیل وڑائچ اور سلیم صافی جیسے قابل اعتماد صحافی موجود ہیں اور ویسے بھی یہی وہی چینل ہے جس کے خلاف عمران خان نے کیس کر رکھا ہے اور اب جناب میر شکیل الرحمن نے بھی عمران خان کے اُن پر عائد کیے جانے والے الزامات سے متعلق مشکل سوالات اُٹھادیے ہیں جنہیں بہرحال عمران خان کواب ثابت کرنا ہوگا ورنہ میر شکیل الرحمن اُن سے ہرجانہ بھی طلب کرسکتےہیں۔ مجھے ذاتی طور پر تکلیف اس بات کی ہے کہ ریحام خان نے یہ انٹرویو بھارتی ٹیلی ویژن کو کیوں دیا ؟ اور اِس میں ایک مکتبہ فکر کے جذبات بھڑکانے کےلیے بار بار ’’محرم الحرام‘‘ کے ماہ کا حوالہ ’’شادی‘‘ کے سلسلے میں کیوں دیا گیا؟۔ ریحام خان کا کہنا تھا کہ ’’عمران نے مجھ سے شادی محرم میں کی اور پھر اُسے بقول اُن کے دو ماہ تک چھپائے رکھا‘‘ ۔۔۔بظاہر یہ جملہ بھی معترضانہ ہے کیونکہ ’’شادی‘‘ ہوجانے کا مطلب ہی ’’ظاہر ‘‘ عمل ہے کیونکہ چھپایا’’زنا‘‘ جاتا ہے شادی نہیں ۔ریحام کا کہنا تھا کہ ’’میری عمران سےشادی 31اکتوبر 2014ء کو ہوئی اور ٹھیک ایک سال بعد 31اکتوبر 2015ء کو طلاق ہوئی ،مجھ سے انہوں نے کہا کہ شادی کا اعلان محرم کے بعد کردیں گے مگر اعلان 2ماہ بعد کیا۔‘‘بظاہر یہ بھی ’’گناہِ کبیرہ ‘‘ کے زمرے میںنہیں آتا مگر ایسے شخص کو بہرحال ’’صادق اور امین‘‘ کہنا بھی درست نہیں تاہم فوراً ہی ریحام خان نے اپنی ذات کو بھی یہ کہہ کر مشکوک بنادیا کہ ’’ عمران خان کی جانب سے اپنی شادی چھپانے پر حیرت ہوئی کیونکہ جھوٹ بولنااُن کی عادت نہیں ہے ‘‘ اگر جھوٹ بولنا ریحام صاحبہ کی عادت نہیں تھی تو پھر کم از کم اُنہیں تو فوراً سچ بولنا چاہیے تھا جو بہر کیف اُنہوں نے بھی ارشاد نہیں فرمایا کیونکہ ’’دونوں نے دھوکا مل کر دیا تھا‘‘یا ’’مل کر کھایا تھا‘‘بعد ازاں وہ مزید فرماتی ہیں کہ ’’لیکن عمران خان نے شادی کے بعد ایک ٹوئٹ کے ذریعے شادی کی تردید کر کے بھی جھوٹ بولا‘‘….یہاں اگر عمران کی تہری غلطی ہے تو ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق ’’ظلم سہنا بھی ظالم کہلائے جانے کے مترادف ہے‘‘ اور اِس طرح محترمہ ریحام صاحبہ نے بھی دہری غلطی کی ہے جسے مان لینا اُن کا فرض ہے ۔ ریحام خان نے اپنے انٹرویو میں میاں محمد نوازشریف کا تذکرہ کر کے بڑی غلطی کی ہے جس سے بعض حلقوں کو یہ کہنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوگی کہ’’ وہ سچ اور جھوٹ کی بنیاد پر نہیں بول رہیں بلکہ اُن کا کوئی ان دیکھا سیاسی ایجنڈا ہے جسے وہ پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتی ہیں‘‘کیونکہ اُن کے اِن جملوں سے سیاسی بُو آتی ہےکہ ’’سپریم کورٹ نے ایک طرف سابق وزیراعظم کے معاملے میں بہت سختی برتی ہےاوردوسری طرف شادی کے معاملے میں جھوٹ بولنے والے کو صادق اور امین قراردیا ہے ‘‘۔ ریحام خان نے دعوی کیا کہ ’’میرے ذرائع کہتے ہیں کہ عمران نے تیسری شادی کر لی ہے مگر نہ جانے کیوں وہ اُس کی تصدیق نہیں کررہے ‘‘…..اِس کا بڑا سیدھا سا جواب یہی ہے کہ جس طرح آپ کے معاملے میں تصدیق دیر سے کی شاید یہاں بھی کچھ ایسے ہی معاملات ہوں….. بقول منیر نیازی ’’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ‘‘!!
ریحام صاحبہ کی دل جوئی کےلیے ہم یہاں منیر نیازی کی یادوں کو تازہ کررہے ہیں صرف اُن کے لیے ….

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں