428876

یہ صرف بینرز نہیں!! … لاؤڈ اسپیکر

میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے وطن میں چند الفاظ، جملے، خدشات اور توقعات کو قریباً ہر فردکے دہن میں گویا ایسا پیدائشی تحفہ پایا ہےجسے کسی نہ کسی لمحے بہرحال زبان کی قید سے آزاد ہونا ہی پڑتا ہے …مثلاً ’’حالات کب بہتر ہوں گے‘‘…’’حکومت کب جائے گی‘‘…’’یہ جھوٹ بول رہا ہے‘‘…’’میچ فکس ہے‘‘…’’بس اب مارشل لا آنے والا ہے‘‘… ’’ارے اُس کو تو میں اچھی طرح جانتا ہوں‘‘…’’یہ بڑا منافق ہے‘‘…’’قائد اعظمؒ ایسا پاکستان نہیں چاہتے تھے‘‘…’’ہم سب پاکستانی ہیں‘‘…دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا‘‘…’ ’کسی کو معصوم انسانوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘…’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘…روٹی، کپڑا اور مکان‘‘…جاگیرداروں اور وڈیروں کو اُلٹا لٹکا دیں گے‘‘… ’’قانون سب کے لئے برابر ہے‘‘…’’ملک میں کہیں فرقہ واریت نہیں ہے‘‘…’’ایسا عمل کرنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے‘‘…’’ہم نے کشکول توڑدیا ہے‘‘…ــمُہاجر کوئی شناخت یا قوم نہیں‘‘…’’مجرموں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا‘‘…’’کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنائیں گے‘‘…’’دھاندلی، فراڈیا، ریاکار، ڈرامے باز، جعلی انتخابات، حقوق، احساسِ محرومی، کوٹا سسٹم، محصورینِ پاکستانِ ، وسائل کی کمی، کالا باغ ڈیم،را، تیسری قوت،ہڑتال، مسئلہ کشمیر، جرگہ، طالبان، داعش، مذہبی انتہا پسندی، لبرل فاشزم، نظام مصطفیﷺ، آمریت، خود کش حملہ، اندھادھند فائرنگ، ٹارگٹ کِلنگ، اتحادِ بین المسلمین، فتوی، چاند کا اعلان، تکفیری نعرے،نجی چینل، بریکنگ نیوز، باوثوق ذرائع، اظہارِ رائے پر پابندی، صحافت پر حملہ، حق اور سچ، خراب حالات، افواہیں، اینکرپرسن، قوم پرست، قومی مفاد، ایجنسیاں، مدارس، جمہوریت، علمائے کرام، تجزیہ نگار،مذہبی اسکالرز، کوک اسٹوڈیو، رمضان نشریات، اشتہارات، روشن اور خوش حال پاکستان، ترقی کے راستے، دھرنا، کنٹینر، 12 مئی، 26 دسمبر، 27دسمبر، یوم سیاہ، یوم سوگ، ازخود نوٹس، آرڈیننس، بجٹ، احتجاج، جعلی ڈگری، غدار، نامعلوم افراد‘‘ اوراِسی طرح کے لاتعداد الفاظ اور اِن سے مل کر یا اِنہیں ملا کر بنائے گئےجملوں کی ادائیگی کسی نہ کسی موقع پر ایک ’’بنیادی قومی فریضہ‘‘ اختیا رکرجاتی ہے…ویسے گزشتہ سے پیوستہ روزسب ہی نےایک ’’آدھے مُہاجر‘‘ کو نشتر پارک میں ’’پُورا مُہاجر‘‘ دیکھا… بانیانِ پاکستان اور اُن کی اولادوں کو ’’حب الوطنی کی سند‘‘ وہ عطا کر رہے تھے جنہیں کبھی اہلیانِ کراچی ’’زندہ لاش‘‘ نظر آتے تھے…اور چونکہ ــلاشوں‘‘ کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ جلسے میں شرکت کے لئے اپنی ’’شناخت کی قبروں‘‘ سے باہر نکل سکیں اِس لئے اُ س شو میں وہی Showہوا جسے شو کرنے کے لئے وہ شوشا کے ساتھ تشریف لائے تھے…ظاہر ہے کہ 22اگست کے افسوس ناک واقعات اورپے درپے موڑ کھاتے ہوئے بدترین حالات نے ہر اُس ’’بے اولاد‘‘ کی اُمید کودوبارہ زندہ کردیا ہے جوکراچی والوں کو گود لینے کے لئے مدتوں سے آس لگائے بیٹھے تھے حالانکہ دِلوں میں جب فرق آجائے تو دلیلیں، منتیں اور فلسفے بے کار جاتے ہیں…ٹائیگر اور ببر شیر چاہے کتنے ہی طاقت ور کیوں نہ ہوںلیکن وہ ’’سرکس‘‘ کا حصہ ضرور بنتے ہیںبس کوئی اُنہیں بھی ’’ڈرا‘‘ کر رکھنے والاضرور ہونا چاہئے…
آج کل بھی ’’نامعلوم افراد‘‘ کی گونج اب سب ہی کی آواز بن چکی ہےجس کے جیتے جاگتے مظاہر وہ پُراسرار بینرز ہیں جو کراچی کے ’’معلوم‘‘ علاقوں میں ’’نامعلوم افراد‘‘ رات کی تاریکی یا دن کی روشنی میں سی سی ٹی وی کیمروں کے شرما کر آنکھیں موند لینے کے بعد لگادئیے جاتے ہیں جن میں کہیں کوئی ’’جانشین‘‘ یہ پیغام دیتا نظر آتا ہےکہ ’’جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حق دار ہے‘‘ اور پھر پہلی رات گزرنے بھی نہیں پاتی کہ مزید ’’نامعلوم افراد‘‘ پچھلے سے زیادہ معلوم مقامات پر اہلیانِ کراچی کی جانب سے ’’جو ملک کا غدار ہے، وہ موت کا حق دار ہے‘‘کی عبارت سے سجے بینرزاُسی طرح اہلیانِ کراچی کی ’’پاور آف اٹارنی‘‘ استعمال کرتے ہوئے لگادیتے ہیں جس طرح انتخابات میں پولنگ اسٹیشن نہ جانے کے باوجود اُن کے ووٹ ڈال دئیے جاتےہیں…یہ صرف ’’نامعلوم افراد‘‘ کا محاذِ بینرز نہیں ہے بلکہ اِس کی ’’آڑ‘‘ میں کسی کو ’’گاڑ‘‘ دینے کی منصوبہ بندی بھی خارج از امکان نہیں ہے…حیرت کی بات یہ ہے کہ اِس سے پہلے بھی جب شہرمیں مخصوص حالات کے بعد’’نامعلوم افراد‘‘ بینرز لگاتے تھے تو ’’جانشین‘‘ کے بجائے ’’جاں نثاران‘‘ یا ’’فدائیان‘‘ کے اجتماعی صیغے استعمال کرتے تھے لیکن ایک نامعلوم ’’جانشین‘‘ کی طرف سے برآمد شدہ بینرز پر ذاتی حیثیت میںانفرادی ’’اعلان‘‘کہ جو قائد کا غدار ہے وہ موت کاحق دار ہےاِس بات کا بھی تعین کررہا ہے کہ کسی کی نگاہ میں کہیں ایک ’’ٹارگٹ جانشین‘‘ موجود ہے جسےــ’’منطقی انجام‘‘ تک پہنچانے کے لئے’’نامعلوم افراد‘‘ نے اُسی ہدف یافتہ ’’جانشین‘‘کی جانب سے ’’قدیمی نعرے‘‘ کی تجدید کا بینری اعادہ کرایا اور پھر اُس کے بعد ’’جو ملک کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے‘‘کے ’’چُھپا‘‘ کر ’’چھپے ہوئے بینرز‘‘ سے اُس کی قانونی و آئینی سزابھی سُنا دی…اِسے آپ ’’ایک تیر سے دو شکار‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں…یعنی نظروں میں کھٹکتے کسی بھی فرد کو ’’جانشین‘‘ کی سلی سلائی ٹوپی پہنا کر ’’خالی جگہ پُر کرنے والے‘‘دوسرے فرد کو ’’پُھر‘‘ کر کے الزام کا تیارشدہ ہاراُسے پہنا کر بینر پر لکھے ’’جانشین‘‘ لفظ کو حقیقت کے سانچے میں ڈھالا جاسکے…
یہ صرف بینرز کی ’’جنگ‘‘ نہیںہے،ہائی کورٹ کے صدر دروازے کے سامنے ’’روپوشوں‘‘ کی ابھی اِتنی مجال نہیں کہ وہ دندناتے ہوئے آئیں، بینر لگائیں اور آرام سے’’فرار‘‘ ہو جائیں…وہ’’اہلیانِ کراچی‘‘ کی جانب سے گرائی گئی ’’تصاویر‘‘ تو دوبارہ کہیں لگا نہیں سکے،اُترے پرچم پھر سے لہرا نہیں سکے لیکن بینرز لگانے میں ایسے ’’شیر‘‘ ہیں کہ جب آتے ہیں سب ہی اِدھر اُدھر دُبک کر بیٹھ جاتے ہیں… دوسری جانبـ’’جو ملک کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے‘‘ یہ تو ایک آئینی بینر ہے،دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 6 کے مطابق اِس نعرے میں کوئی قانونی سقم نہیں لیکن اِسے آویزاں کرنے والے جوکہ ’’پنہاں‘‘ ہیں لیکن ہیں ’’اہلیانِ کراچی‘‘جو نہ تو نظر کے سامنے ہیں اور نا ہی جگر کے پار…گوکہ دِل بھرا ہوا ہے، جی چاہتاہے کہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہی ہوجاؤں لیکن سازشوں کی بھیڑمیں بھیڑیوں کی چھپن چھپائی مجبور کرتی ہے کہ پاکستان کے سینے پر کیاکم زخم لگے ہیں جو ایک اور لگتا دیکھ کر بھی چپ رہوں…شاید خالق نے اِسی لئے دِل کو پسلیوں کے پنجرے میں قید کیا ہے تاکہ وہ اسیری میں صرف دھڑکنا سیکھے… بے دھڑک بولنا نہیں… بہتر ہے کہ حالات میں بہتری اپنی ’’خوبیوں‘‘ کی بنیاد پر لائی جائے کسی کی ’’خامیوں‘‘ پر واویلا مچا کر وقتی خاموشی کا حصول تو ممکن ہے لیکن دائمی امن کا راستہ میری بات مان لیجیے کہ یہاں سے ہوکر گزرتا ہی نہیں ہے… کچھ کرنا ہے تو یوں کیجیے کہ…
لوہے پہ لگا زنگ بھی اِک درسِ فنا ہے
پانی ہے بہت نرم، مگر جیت رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں