542841

کچھ تو رام کا نام لو مکارو! … لاؤڈاسپیکر

جب ’’اگنی ‘‘ کے گرد آپ اپنے کیمپس بنائیں گے اور پھر کالے جھوٹ بول کر اُسے ’’ہیڈ کوارٹر ز‘‘ کا نام بھی دے ڈالیں گے تو پھر یہ کیسے ممکن ہےکہ ’’اگنی‘‘ ماتا اِس پر آگ بگولہ نہیں ہوگی …اقوام متحدہ کا سامنا نہ کرنے کا آخر کوئی تو بہانا چاہئے تھا نا موُدی اور اُس کے پاکستان دشمن ایجنڈے کو…لہٰذا اپنے ’’مستندترین‘‘ جھوٹے میڈیا کے ذریعےپہلے تو ڈوگرا بٹالین10کے ہیڈ کوارٹرزکو بھارتی بریگیڈ12کا مرکز قرار دیاگیاحالانکہ یہاں پر زیاہ تر سکھ فوجیوں کی ٹولیا ں مٹر گشت کرتی ہیں اور اِس کے ساتھ ہی پٹرولیم ڈپو بھی جُڑا ہوا ہے لیکن یہ بھی یاد رہے کہ مکاری، ریاکاری، بغض اور عداوت کی سینکڑوں تاویلیں بھی اِن ہی کے ساتھ جُڑی ہوئی ہیں …بجائے اِس کے کہ پٹرولیم ڈپو میں آگ لگنے یاکسی اپنے کی غیر ذمے دارانہ حرکت کو قبول کر کے اُس پرمذمتی اور معذرتی بیان جاری کیا جاتا لیکن ’’سانپ کے پجاریوں‘‘ کا تو کام ہی اپنی اپنی پٹاریوں سے زہریلے سانپوں کو باہر نکال کر انسانی آبادیوں پر اُن کا زہر تُھکوانا ہے اور ویسے بھی جنہیں تھوک کر چاٹنے کی عادت ہوجائے پھر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جو چاٹا جارہاہے وہ زہر ہے یا تھوک؟
چنانچہ حسبِ عادت اور عینِ بدفطرت بھارتی میڈیا اوراُن کے کرسیوں سے اُچھلتے بندرو ں نے اپنی خفت و ذلت مٹانے اور ملت کو نفرت کے ٹیکے لگانے کیلئے دیکھتے ہی دیکھتے وہ طوفانِ بدتمیزی بپاکیا کہ اللہ کی پناہ! … آپ مقبوضہ کشمیر میں نعشوں کے ڈھیرلگادیں،خواتین کی عصمت دری کریں، جنت نظیر وادی کو چناربستی بناڈالیں ، آگ اور دھوئیں کی پرستش کیلئے اِتنے بے قابو ہوجائیں کہ کشمیر کوپوجا کی تھالی سمجھ کر ’’پوتِر اگنی‘‘ کی دُھونی لیں ، بچوں کے سر سے عمداً اُن کے باپ کا سایہ چھیننے کا پاپ کریں اور پھر الزام دھر دیں اُن بے گناہ کشمیریوں پر جواِن نہ رکنے والے بدترین مظالم پر احتجاج کیلئے بھی نکلیں تو آپ ہی کی گولیوں کا نشانہ بن جائیں اور دوسری جانب اپنی ہی پدی کیا پدی کا شوربہ جیسی ایک’’ ابھاگن بٹالین‘‘ کے ’’نشئی فوجیوں‘‘ کی غلطی پر کہ جنہوں نے ’’بابا رام دیو بیڑی‘‘ کا سونٹا لگا کر اُسے پٹرولیم ڈپو کی طرف اُچھال دیااور ماتا کوپھر ایسا جوش آیاکہ وہ بھڑک اُٹھیں یہاں تک کہ اُن تمام گناہ گاروں کو اِس جرم کی بھیانک سزا دی جو اُنہوں نے وہاں بیڑی پی کر کیا تھا، آپ تو ہتھے سے ہی اکھڑگئے اور اپنی جبلت کے ہاتھوں مجبور ہوکر پاکستان پر یہ کہہ کر چڑھ دوڑے کہ یہ ایک ’’دہشت گردانہ حملہ ہے ‘‘…
ارے او آتنک واد کو ہوا دینے والے مُودی کے دیش!اپنے یونٹ، بریگیڈ اور ڈویژن کی ناقابلِ معافی غلطیوں پر میرے وطن کو مؤردِ الزام ٹہرانے سے پہلے یاد رکھناکہ تمہارے اپنے چہرے پر مکاری کے اتنے پیپ رِستے دانے ہیں کہ تم عالمی دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہو اور اِس کیلئے سب سے بہترین راستہ جو تم ہمیشہ سے ہی چُنتے آئے ہو وہ پاکستان پر الزام عائد کردینا ہے…تمہاری اپنی فوج دِل برداشتہ ہے ، تمہارا ایک ایک سپاہی پاکستانی جوان سے خوف زدہ ہے ، تم پر ہمارا خوف سوار ہے اِس لئے اُسے مصنوعی طور پر مٹانے کیلئے کبھی بلوچستان تو کبھی مقبوضہ کشمیر اور کبھی کراچی سمیت ملک بھر میں پھیلے اپنے پالتوکتوں کے ذریعے ہمیں نقصان پہنچانے کی لاحاصل کوششیں کرتے رہتے ہو…لاحاصل بھی اِس لئےکہا کہ سارے منصوبے لگتاہے کہ ’’راکھی ساونت‘‘ سے بنواتے ہو جو انتہائی درجے کے عامیانہ اور وقت سے پہلے ہی ’’بے نقاب‘‘ ہوجاتے ہیں…اور چونکہ تمہارے نزدیک جانوروں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اِسی لئے پالتو کتےاِدھر سے اُدھر آنے میں کوئی زیادہ خوف بھی محسوس نہیں کرتےاور آسان ٹارگٹ سونگھتے پھرتے ہیں تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیاجائے …خیر اب جب کھل کر برہنگی پر اُتر ہی آئے ہوتو اپنی جنتا کو بتا کیوں نہیں دیتے کہ ہم نے یہ ساری نوٹنکی رچائی ہی اِس لئے ہے تاکہ بڑبولا مُودی اقوام متحدہ میں کشمیریوں پر مظالم اور پاکستان میں در اندازی کے کھلے ثبوتوں کے سامنے سرنہ جھکا سکے اور اِس کیلئے بہترین بہانہ اور کیا ہوسکتا تھا کہ اپنے ہی کیمپ میں آگ لگوائی جائے،دھماکے ہوں،پٹرولیم ڈپوکے قریب ہونے کا بھرپورفائدہ اُٹھایا جائے اور ’’اُڑی‘‘ سیکٹرکو ایسا ’’اڑایا‘‘ جائے کہ عالمی توجہ کشمیرپرہمارے جبر سے ہٹ کر ہمارے’’معصومانہ صبر‘‘ کی جانب مرکوز ہوجائے …
تھوڑی رام لیلا تو ہم نے بھی پڑھ رکھی ہے اور گیتا کے پرانوں سے بھی اچھی طرح واقف ہیں،اب یہ سمجھ نہیں آرہا کہ اِس گندے کھیل میں تم خود ہی راون کیوںبن گئے ؟…وہ دھوکےسے سیتا لے گیا تھا اور تم سدا کے دھوکے بازہماری پوِترتا پر آروپ لگانے سے باز نہیں آتے ، لنکا خود ہی ڈھاتے ہو اور الزام رام پر لگادیتے ہو…ارے کچھ تو شرم کرو !جب تمہیں معلوم تھا کہ اقوام عالم کے سامنے تمہاری رُسوائی طے ہے اور کشمیریوں پر مسلسل ستم ڈھانےکے سبب قصائی کے پاس اِتنی مہلت بھی نہیں ہے کہ مذبح خانے سے نکل کراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سامنا کر سکے جبکہ تمہاری بُرے لچھن والی اولاد ’’را‘‘ نے پہلے ہی سے براہم داغ کے چیلوں کو پاکستان کے خلاف مظاہرے کیلئے جنرل اسمبلی کے باہر لاکھڑا کیا ہے تو پھر نہ تو تمہاری ہمت تھی اور نا ہی اوقات کہ امریکہ جاکر اپنی صفائیاں دیتے پھرتے…چنانچہ تم نے انتہائی صفائی کے ساتھ کہ ’’ہینگ لگے نےنہ پھٹکری،رنگ بھی چوکھاآئے‘‘اپنے ہی قابض سیکٹر ’’اُڑی‘‘ پر خود ساختہ ’’بیڑی حملہ‘‘ کر ا کے الزام ہم پر تھوپنے کی ناکام کوشش کی تاکہ دنیا کے سامنے ودھواؤں کی طرح بین کرسکو کہ اے دنیا والو! آگ بھی ہمارے ہی گھر میں لگ رہی ہے اور انگلیاں بھی ہم ہی پراُٹھائی جارہی ہیں …ہے بھگوان! یہ کیسا انرتھ ہورہا ہے تیرے آکاش کے نیچے تیری دھرتی پر…ہماری ہی سینا پر حملہ ہو اور ہمارے ہی فوجی آگ میں جلیں( حالانکہ مرنے کے بعد بھی آگ ہی میں جلنا ہوتاہے ) اور ہم ہی کوکو سا جائے کہ دیکھو اِس کانٹھ کا تم ہی کارن ہو…‘‘ مگر شاید تم دنیا کو اِس بات پر قائل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکو کہ ’’اُڑی’’ کشمیر کی وادی ’’جموں‘‘ کا حصہ ہے جہاں مسلمانوں کی نہیں بلکہ ہندوؤں کی اکثریت ہے اور اب تک کی کشمیری جدوجہد ِ آزادی کی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ درپیش نہیں آیا کہ خدانخواستہ بقول تمہارے مہابکّاو میڈیاکے الزامات کے مطابق کہ کسی نام نہاد حریت پسند نے جموں کے اِس انتہائی حساس،چوکس اور بھرے پُرے فوجی زون میںکہ جہاں تم نے باقاعدہ لیزر لائنیں تک لگا رکھی ہیں کہ اگر کوئی اُنہیں عبور کرنے کی کوشش تو درکنار قریب پھٹکنے کا ارتکاب بھی کر بیٹھے تو تم توپوں،گولہ باری اور فائرنگ سے اُس کی ایسی خبرلوکہ یمراج بھی کانپ اُٹھے…اِسکے علاوہ نہ تھمنے والی سرحدی پٹرولنگ جس میں تمہارے تربیت یافتہ ’’کتے‘‘ بھی تمہارا بھرپور ساتھ دیتے ہیں۔ اور بقول تمہارے’’دہشت گردوں‘‘ کو سونگھتے پھرتے ہیں تو ایسی حالت میںتم خود ہی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا کے مصداق کس طرح ممکن ہے کہ ایک ’’آتنک وادی‘‘ تمہارے اِتنے بھڑیا حفاظتی اقدامات کو پھلانگتا ہوا بقول تمہارے دنیا کی تیسری سب سے بڑی آرمی کو نہ صرف چکمہ دے ڈالے بلکہ تمہارے کتوں کے سونگھنے کی صلاحیت پربھی سوالیہ نشان ڈالتے ہوئے K9فورس کی ایسی تیسی کردے…؟
دراصل یہ کالی ماتا کی جانب سے قصائی مودی کے جنم دِن کے سلسلے کا تحفہ ہے جس میں وہ یہ بتانا چاہتی ہیں کہ اُنہیں مُودی ایک آنکھ نہیں بھاتااور پھر ویسے بھی کیا یہ سچ قابلِ شک نہیں کہ روسی دورے پر جانے سے ایک دِن پہلے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ مبینہ حملےسےمزید ایک دن پہلے کیوں نکل لئے؟…بھئی ظاہر ہے وہ اور دوول نہیں چاہتے ہوں گےکہ اپناہی لکھاہوا ڈراما خود دیکھیں!!…اچھاچلو مان لیا کہ تمہارے فوجی مارے گئے !!اب یہ تو بتاؤ کہ لاشیں کہاں ہیں؟ٹیلی وژن پر چیخ و پکار کے بجائےاپنے فوجیوں کی نعشیں دکھانے سے کیوں کترا رہے ہو؟بھارتی جیلوں میں 400پاکستانی قید ہیں، اب ظاہر ہے کہ 4 قیدیوں کو جیل سے نکال کر شہید کر کے اُن کے چہرے مسخ کرنے میں کچھ تو وقت لگے گا نا!…قصہ مختصر مگر پُر اثر یہ کہ پچھلی نوٹنکیوں کی طرح یہ بھی کمزور اسکرپٹ رائٹر کا ایک ایسا ڈراماہے جو عالمی باکس آفس پر بُری طرح ناکام ہوچکا ہے، میرا خیال ہے کہ اِسے بھی شاید’’ بارڈر‘‘ یا ’’کارگل‘‘ کے جے پی دّتا نے تحریر کیا تھامگرکیا کہئے کہ’’پتّہ پتّہ بُوٹا بُوٹا حال ہمارا جانے ہے ،جانے نہ جانے دّتا ہی نہ جانے سارا عالم جانے ہے ‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں