1563707

بھارت ماتاتیار رہو! ابّو آرہے ہیں! … لاوڈاسپیکر

یہ ’’قصائی مُودی‘‘ کا ’’مہان ‘‘ بھارت ہے جہاں ’’بھارت ماتا کی جے ‘‘ نہ کہنے پر بجرنگ دلے اور آر ایس ایس کے سانپ شیو سینا کی چھتر چھایا میں’’ناستکوں‘‘ پر’’پانڈوؤں‘‘کی طرح ٹوٹ پڑتے ہیں تاکہ اُنہیں کھدیڑ کر رکھ دیں …یہاں دُرگا بھی ماں ہے ، کالی بھی ماں،لکشمی بھی ماتا کے سنگھاسن پر ہیں تو پاروتی بھی ماتا ہی کہلاتی ہیں، لاتعداد علامتی اور مذہبی مائیں رکھنے والے اِس دیش میں مُودی کی ماں کو چھوڑ کر کہ جنہیں میاں صاحب ساڑھیاں بھجواتے ہیںبھارتیوں کی اکثریت کنفیوژن کا شکار ہے کہ آخر کس ماں پر مکمل اتفاق کیا جائے …ویدوں میں لکھا ہے کہ کسی زمانے میں یشومتی ماںسے کرشن جی کا ایک ہی سوال ہوتا تھاکہ رادھا گوری کیوں ہے اور مجھے کالا کس نے بنایا؟اِس ’’مستحکم سوال‘‘ میں ازخود ’’وحدہ لاشریک‘‘ کی قدرتِ صناعی کی طرف اشارہ ہے کہ ’’بے شک کوئی ہے جو صورتیں تخلیق کرتاہے ،جنہیں یہ بھگوان سمجھ بیٹھے ہیں اُنہیں بھی اُسی نے تخلیق کیا ہے جب ہی تو کرشن پوچھ رہے ہیں کہ میں کالا کیوں ہوں؟‘‘ …تاہم چونکہ ہر قسم کے جانور سے لے کر جیتے جاگتے انسانوں تک کو بھگوان کا اوتار سمجھ کر اِن پوجا پاٹ کرنے والوں کو سمجھانا اُسی طرح مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن تھاجس طرح بقول ڈان کہ ’’ڈان کو پکڑنا مشکل ہی نہیںناممکن ہے ‘‘ لہذا اِن تمام غلاظتوں اور متعصبانہ سوچ سے علیحدگی اختیار کرنے کے لئے قائد اعظم ؒ نے طویل جدوجہد اور لاتعداد قربانیوں کے بعد میرا وطن پاکستان حاصل کیا اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہےکہ میرے اجداد نے کٹ مر کے اِس ملک کے قیام کے لئے ہر آخری حد کو بھی عبور کیا اور آزادی کیا ہوتی ہےیہ پوری دُنیا کو اپنے بہتے ہوئے لہو کی دائمی سُرخی سے سمجھادیا …
مگر آج بھی کٹے پھٹے بھارت کوجن گنی چنی سپلتاؤں (کامیابیوں) پر گَروَ(فخر) ہے اُن میں سے بیشتر حادثاتی یاثقافتی ہیں …جیسے کہ اُس کی ایک ارب نفوس پرمشتمل آبادی ، حالانکہ اِس میں بھارت کا اپنا کوئی ذاتی کردار نہیں بلکہ یہ بڑھتی ہوئی غیرمتاثر کُن آبادی اب پڑوسیوں کے لئے تکلیف کا باعث بنتی جارہی ہے ،پھر اُنہیں فخر ہے کہ وہ سب سے بڑی جمہوریت اور ایک سیکولر اسٹیٹ ہیں …کسی کتابچے میں اپنے تعارف کے لئے تو اچھی سطریں ہیں لیکن ’’ستر پوشی‘‘ کے لئے اِس ننگے جھوٹ کا کوئی اہتمام نہیں کہ کہاں کی جمہوریت کہ کشمیر کھابیٹھےاور کون سا سیکولر ملک کہ جہاں گائے کھائی نہیں جاسکتی …اِن برہمچاریوں، شاکاہاریوں یا ماس مچھی سے دُور رہنے والوں کو اِس بات پر بھی بڑا ناز ہے کہ اُن کی فلم انڈسٹری کی چمک دمک نے ’’پڑوس‘‘ کو بھی اُن ہی کی فلمیں دیکھنے پر مجبور کردیا ہے …اجی شریمان! چمک دمک تو بھارتی کھڈیوں میں ’’ہارپِک‘‘ ڈالنے سے بھی آجاتی ہے اور ہمارے ہاں اکثریت صرف بھارتی فلمیں ہی نہیں دیکھتی بلکہ رفع حاجت کے لئے ’’بھارتی کُھڈیاں‘‘ بھی استعمال کرتی ہے، آپ کی مصالحہ فلمیں بھی رفع حاجت کی طرح ہیں،جب ضرورت محسوس ہوتی ہے کرلیتے ہیں میرا مطلب ہے دیکھ لیتے ہیں چنانچہ اِس پر فخر نہ کیجیے بلکہ ممکن ہو تو بُرااثر لیجیے کہ آپ ہمارے لئے ’’تفریح‘‘ اور ’’آئٹم سانگ‘‘ سے زیادہ کچھ نہیں …پھر آپ کو یہ غرور بھی ہے کہ آپ اِس خطے میں تیسری جوہری قوت ہیںحالانکہ آپ اِس سچ کو ہمیشہ فراموش کربیٹھتے ہیں کہ پورے خطے میں آپ کی وجہ سے ہر پڑوسی نے سوائے نقصانات اُٹھانے کے بھارت سے کچھ حاصل ہی نہیںکیا …1971میں آپ نے اپنے خبثِ باطن اور پُوروَاگراہ(تعصب)کی بنا پر پاکستان کو دولخت کیا، اِن نیچ حرکتوں پر بھی آپ کی راشٹریے(قومی) بے شرمی بامِ عروج پر ہے کہ جب آپ ارادتاً تاملوں کی باغیانہ فکرکو سری لنکا کے خلاف استعمال کرتےہیں،مدتوں تک تامل ٹائیگرز کی سرپرستی کرتے ہیں،بھوٹان اور نیپال میں عدم استحکام ہی نہیں بپا کرتے بلکہ جان بچانے والی ادویات تک نیپال نہیں پہنچنے دیتے …ایسی ان گنت کم ظرفیوں کی لاتعداد کہانیاں‘‘غیر جانب دار مؤرخ‘‘ نے تاریخ میں محفوظ کررکھی ہیں لیکن اِس کے باوجود پاکستان کے خلاف تو آپ اِس طرح روتے ہیں جیسے کہ ایک ’’کنواری ماں‘‘ جوہر بار اپنی آبرو لوٹے جانے کا الزام پاکستان پر لگادیتی ہے …آپ کی بدفطرتی اور اخلاقی پستی کی کہانیاں اِتنی شرم ناک ہیں کہ سنانے والابھی منہ پھیر لے لیکن آپ کی چتا کو اگنی دینے سے پہلے یہ ہر پاکستانی کا فرض ہےکہ تمام کہانیاں من و عن تاریخ کی روشنی میں بیان کردے جو میں تو کم از کم ضروربیان کروں گا اور ویسے بھی مجھے تو ’’را‘‘ کے سابق سربراہ وکرم سُود نے جی ایچ کیو کا باقاعدہ ’’غنڈہ‘‘ ڈکلیئر کرہی دیا ہے اور گزشتہ ہفتے ’’نئی دلی‘‘ میں ایک سیمینار سے خطاب کے دوران’’میری شان‘‘ میں خوب قصیدے پڑھے ہیں،اِس لئے مجھے آپ کی اخلاقی بے حیائی کی کہانیاں سنانے میں لیموں کا اچار کھانے سے بھی زیادہ لطف آتا ہے …مگر خیال رہے کہ پاکستان میںبسنے والا ہر ہندواورسکھ پاکستان کا وفادار ہے ، آپ کا نہیں…اُن کے مندر اور عبادت گاہوں کی ہم ہمیشہ حفاظت کرتے رہیں گے لہذا بھول کر بھی ہماری ہندواورسکھ برادری کو کبھی اُکسانے کی غلطی نہیں کیجیے گاورنہ بھارت کو پاکستانی ہندوؤں کے ہاتھوں تذلیل کے عبرتناک مناظر دیکھنا پڑیں گے جو کسی کےلئے شدید تکلیف کا باعث ہوں یا نہ ہوں لیکن قصائی کے ’’لڑائی لڑائی کھیلنے ‘‘ کے بدبودار خیالات کی ’’صفائی‘‘ کے لئے کافی ہوں گے…
بھارت ماتا کے متعصب باسیو!ہم زندگی شہادت کے لئے جیتے ہیںکیونکہ تم میں اور ہم میں حیات و موت کے مطالب کا یہی فرق ہے کہ تم صرف ایک زندگی کے لئے جیتے ہو اور ہم صرف ایک موت کے لئے مرتے ہیں…بہتر ہے کہ ڈرامے بازیوں اور فینٹم کے چُوڑیے سیف علی خان کی طرح پاکستان میں گھس کرکسی مہم جوئی سے اجتناب برتو!اپنی مظلومیت کی گھڑی گھڑائی داستانیں سنا کر طبلِ جنگ بجانے سے باز آجاؤ ورنہ اِس کی بازگشت تمہاری سماعتوں کی حدود پھاڑ کر رکھ دے گی…ایک عام پاکستانی بھی جانتاہےکہ تمہاری ’’خرابیاں اور کمزوریاں‘‘ کہاں کہاں چھپی بیٹھی ہیں …ہم تو بلوچستان سنبھال لیں گے اور جو زہر تم نے ہمارے بلوچ بھائیوں میں گھولا ہے اُس کا طریاق بھی تیار کرلیں گے لیکن اپنے سوراخوں پر دھیان دو بھیا! 35کروڑ دلِت اور قریباً تین کروڑ سکھ برادری کے مطالبۂ ’’آزادی‘‘ کو دَبانا کہیں تمہاری ماتا کے لئے نہ ختم ہونے والی مشکل نہ بن جائے…ساڑھے17 کروڑ مسلمان تم سے ویسے ہی جَلے بُھنے بیٹھے ہیں…72لاکھ تامل نفرت کی چنگاریاں دِلوں میں لئے کسی بھی وقت ’’پَوِتر اَگنی‘‘ کا رُوپ دھارن کر کے بھارت کو راکھ کا ڈھیر بناسکتے ہیںاور دس لاکھ کےقریب نکسِل باغی تمہاری بوٹیاں نوچنے کو بے تاب ہیں…اور پھر پاکستانی تو ویسے بھی گائے کے گوشت اور بچھیا کی بریانی کے رسیا ہیں، سوروں کو مارنےمیں ہمارا کوئی ثانی نہیں یہاں تک کہ تمہارے تیار کردہ گھس بیٹھیے یہاںآکر گِھس جاتے ہیں لیکن ٹخنوں میں دم ہو تو کچھ قدم آگے بڑھیں نا!…ایک مفت مشورہ ہے ،پاکستان کو اپنی فلموں میںہی تباہ کر کے خوش ہولیا کروورنہ ماتا جی یاد رکھو!ابّو’’دُلہن‘‘ لینے کسی بھی وقت آسکتے ہیں…!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں